Friday, September 11

کرم آپریشن میں افغان دہشت گرد عبیداللہ سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

کرم آپریشن میں افغان دہشت گرد عبیداللہ سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی، 11 ستمبر 2026 (غفران): سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران افغان دہشت گرد عبیداللہ سعد سمیت 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق آپریشن 8 ستمبر 2026 کو کیا گیا۔ عبیداللہ سعد ولد غلام غوث صالحی افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ کا رہائشی تھا۔ وہ کالعدم فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ آپریشن کے دوران اس کے 3 ساتھی بھی مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ فورسز نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور قومی امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل پشاور میں انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) نے شمستو کیمپ کے قریب کارروائی کے دوران ایک اہم کمانڈر سمیت 5 دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ یہ کارروائی ارمار کے علاقے میں ایک کمپاؤنڈ میں کی گئی جہاں دہشت گرد بڑی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد داعش خراسان (آئی ایس کے پی) سے وابستہ تھے اور حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں سمیت مختلف مقامات پر بم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ اور بلال عرف ابوبکر شامل تھے، جبکہ ایک اور دہشت گرد کی شناخت شاہداللہ ولد معراج، ساکن اپر مہمند، کے نام سے ہوئی۔ دیگر دو دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری تھا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران ایک سب مشین گن، 4 پستول، 2 دستی بم، 5 میگزین اور ایک دیسی ساختہ بم برآمد کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ عمران عرف ابوبکر 20 دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں بم دھماکے اور اسلام آباد سمیت دیگر اضلاع میں پولیس اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شامل تھے۔ وہ مولانا خان زیب اور سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان سمیت دیگر افراد کے قتل کے مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق عمران عرف ابوبکر ریحان زیب کے قتل میں براہ راست ملوث تھا جبکہ 2023 میں باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے خودکش دھماکے میں بھی اس کے ملوث ہونے کا الزام تھا۔ وہ 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق عمران نے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی اور حملہ آور کو نوشہرہ سے ترلائی اسلام آباد منتقل کیا تھا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد شاہداللہ نے ترلائی امام بارگاہ کی ریکی کی اور اسے ہدف کے طور پر شناخت کیا تھا۔ سی ٹی ڈی نے عمران عرف ابوبکر کی گرفتاری یا اس کے بارے میں اطلاع دینے پر 1 کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔