
ماسکو، 2 اکتوبر 2026 (غفران): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر روس کے بالٹک خطے میں واقع کالینن گراڈ پر براہ راست حملہ کیا گیا تو ماسکو اپنے تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے پر غور کرے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ماسکو میں والڈائی ڈسکشن کلب سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس مغربی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور کالینن گراڈ کے قریب نیٹو کی حالیہ فوجی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ بالٹک میں مسلسل فوجی مشقیں، روسی بحری جہازوں کو روکنے کی کوششیں اور کالینن گراڈ سے متعلق بیانات کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پیوٹن نے خبردار کیا کہ روس یا اس کے کسی علاقے، بشمول کالینن گراڈ، پر براہ راست حملے کی صورت میں ملک کے تمام دستیاب ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر طور پر زیر غور آئے گا۔ نیٹو، متعدد یورپی ممالک اور برطانیہ نے روس پر سائبر حملوں، تخریب کاری اور جاسوسی سمیت ہائبرڈ سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ماسکو ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
یوکرین میں جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے یوکرینی بنیادی ڈھانچے، توانائی تنصیبات اور دارالحکومت کیف پر حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی ڈرون حملوں نے روسی آئل ریفائنریوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے ایندھن کی فراہمی متاثر اور روسی جنگی معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔ پیوٹن نے اعتراف کیا کہ یوکرینی حملوں سے روسی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور ان کے بقول روس کی مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً ایک فیصد کمی آئی ہے، جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحیرہ اسود میں یوکرینی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 100 سے زائد روسی بحری جہاز متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے اپنی فوجی اور توانائی تنصیبات پر حملوں کا جواب دیا ہے۔ تاہم پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرین کے تنازع کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق روسی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو 2027 میں دفاعی اخراجات کے لیے 17.1 ٹریلین روبل، یعنی تقریباً 205 ارب ڈالر مختص کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو ابتدائی بجٹ سے تقریباً 27 فیصد زیادہ اور فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔