لندن، 31 اگست 2026 (نوشین): سابق آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ وارنر نے لارڈز ٹیسٹ میں انجری کے باعث پاکستان کے اوپنر امام الحق کی عدم شرکت پر سوال اٹھاتے ہوئے آسٹریلوی اسپنر ناتھن لیون کی پنڈلی کی انجری کا حوالہ دیا ہے۔ امام الحق کو ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی میں کھنچاؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد سلمان علی آغا نے ان کی جگہ فیلڈنگ کی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بعد ازاں تصدیق کی کہ اسکینز میں امام الحق کی پنڈلی میں معمولی درجے کی انجری سامنے آئی ہے اور ٹیم کے میڈیکل اسٹاف کی جانب سے ان کا علاج جاری ہے۔ تاہم امام الحق نے میچ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کی، جبکہ پاکستان کو لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ چوتھے روز کے پری میچ تجزیے کے دوران امام الحق کو شارٹس میں ٹریننگ کرتے دیکھا گیا، ان کی زخمی ٹانگ پر میڈیکل ٹیپ لگی ہوئی تھی اور وہ لنگڑاتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس ویڈیو پر ڈیوڈ وارنر نے سوال اٹھایا کہ کیا امام الحق بالآخر بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تھے۔ وارنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سوال کیا، ”کیا وہ اس سب کے بعد بیٹنگ کے لیے آئے تھے؟“ بعد ازاں وارنر نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے ناتھن لیون کی انجری کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ ناتھن لیون لارڈز میں پنڈلی میں 16 سینٹی میٹر کے پھٹنے کے باوجود بیٹنگ کے لیے میدان میں اترے تھے اور اس وقت بیساکھیوں کا سہارا لے رہے تھے۔ سابق انگلش فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ نے بھی امام الحق کی بحالی کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کی ری ہیبلیٹیشن کی سرگرمیوں کو اتنے نمایاں انداز میں دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ براڈ کا کہنا تھا کہ امام الحق اپنی بحالی کی مشقیں عوام کی نظروں سے دور بھی مکمل کر سکتے تھے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ان کی میچ سے غیر حاضری پر تنقید بھی کی جا رہی تھی۔ وارنر اور براڈ کے تبصروں کے بعد امام الحق کی انجری، بحالی کے عمل اور لارڈز ٹیسٹ میں ان کے بیٹنگ نہ کرنے کے فیصلے پر کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
