Monday, November 2

چینی صدر کا مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور، عمان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم

China, Oman call for regional peace and stronger strategic partnership

بیجنگ، 02 نومبر 2026 (کامران راجہ): چین کے صدر شی جن پنگ اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کو بڑی طاقتوں کی رقابت اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہیے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین علاقائی امن کی بحالی اور پائیدار استحکام کے لیے عرب ممالک اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک، بشمول عمان، کے ساتھ رابطوں اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ سلطان ہیثم کا یہ دورہ 1978 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی بھی عمانی سربراہِ مملکت کا 48 سال میں چین کا پہلا دورہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا۔ سلطان ہیثم نے کہا کہ چین عمان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ساتھ شراکت میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری 33 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے چین کے ساتھ ترجیحی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، دفاعی صنعت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان 2024 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 36.73 ارب ڈالر رہا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے سپلائی چین، ماحول دوست ترقی اور ڈیجیٹل فنانس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق کم از کم 14 معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں اور پروٹوکولز پر دستخط کا مشاہدہ بھی کیا۔