Saturday, October 10

پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق، سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت

Pakistan Confirms US-Iran Talks, Condemns Houthi Attacks on Saudi Arabia

اسلام آباد، 10 اکتوبر 2026 (غفران): پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے، جبکہ واشنگٹن نے تہران کی تجاویز پر اپنا مؤقف بھی پیش کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پہلے ہی موجود ہے اور زیرِ بحث بعض نکات اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پاکستان اور دیگر اہم ممالک امریکہ اور ایران کے تنازع کے حل کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطے ہوں، کشیدگی میں کمی لائی جائے اور تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان اپنی ثالثی کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت: ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں مقدس مساجد کی حرمت کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ افغانستان سے دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات: سجاد حیدر خان نے کہا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی پڑوسی ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس کے دوران افغانستان سے دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق افغان طالبان کے وفد نے ماسکو فارمیٹ کے گزشتہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق اختیار کیے گئے مؤقف کو برقرار رکھنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے افغانستان سے آنے والی دہشت گردی محض بیانات کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگلے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

متنازع کشمیر کو بھارتی نقشوں میں شامل کرنے کی مخالفت: ترجمان نے بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کے متنازع علاقوں کو اپنے نقشوں میں شامل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ یکطرفہ اقدام قانونی طور پر بے بنیاد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج: ترجمان نے مزید بتایا کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے 2 اکتوبر کو دو پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ان ہلاکتوں پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے 3 اکتوبر کو بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔ اسلام آباد نے واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف مناسب قانونی اور محکمانہ کارروائی اور تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔