Monday, November 2

پاکستان کا امریکی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم، افغان طالبان سے سکیورٹی خدشات دور کرنے کا مطالبہ

Pakistan Welcomes US Mediation Offer, Urges Afghan Taliban to Address Security Concerns

اسلام آباد، یکم نومبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد اور کابل کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ اور دیگر دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کی حمایت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان حکام افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کا واضح عزم ظاہر کریں۔ ترجمان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، فتنۃ الہندوستان اور افغانستان میں موجود دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز روابط کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اس عمل کے نتیجے میں پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے ٹھوس اور عملی پیش رفت بھی ہونی چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارتی مذاکرات کے ساتھ دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی بھی ناگزیر ہے۔