اسلام آباد: 15 اگست, 2026 (نوشین): برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سیاست میں ایک ’’اہم کڑی‘‘ کے طور پر ابھر رہا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کرکے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی علاقائی سلامتی میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی ایک اہم اسٹریٹجک طاقت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ مفادات پر مبنی شراکت داری برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ پاکستان خلیجی ریاستوں اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے، جس کے باعث اسلام آباد مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ وہ کسی ایک عالمی بلاک کا مکمل طور پر حصہ بھی نہیں بنتا۔رپورٹ میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی معاشی سفارت کاری کو بھی نمایاں کیا گیا، جس میں امریکہ کے ساتھ کرپٹو کرنسی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تجارتی مواقع شامل ہیں۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں سے منسلک کرنے کے منصوبے نئے منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب کی حمایت پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اسلام آباد اپنے فوری ہمسایہ خطے سے آگے بڑھ کر معاشی اور سفارتی روابط کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی امریکہ، چین، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں ملک کے لیے اسٹریٹجک گنجائش پیدا کر رہی ہے۔ اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں پاکستان کو بڑی عالمی طاقتوں اور علاقائی بلاکس کے درمیان ایک اہم رابطے کے طور پر سامنے لا رہی ہیں۔اخبار کے مطابق ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اسے عالمی ’’رسک بورڈ‘‘ پر بھی ایک الگ مقام دیا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی جغرافیائی سیاست میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
