Tuesday, November 3

وزیراعلیٰ مریم نواز کی صوبے بھر میں صفائی یقینی بنانے کے لیے حکام کو 15 روز کی مہلت

CM Maryam Nawaz Sets 15-Day Deadline for Province-Wide Cleanliness Improvement

لاہور، 3 نومبر 2026 (کامران راجہ): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں صفائی کے نظام میں 100 فیصد بہتری لانے کے لیے متعلقہ حکام کو 15 روز کی مہلت دے دی ہے جبکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ناقص صفائی انتظامات پر ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی خدمات ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا اور لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں صفائی کا نظام سرکاری سطح پر خود چلانے کی منظوری دے دی۔ مریم نواز نے صوبے کی سڑکوں پر گردوغبار اور گندگی کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی شاہراہوں کو روزانہ دھونے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صفائی کے بعد سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوں پر جرمانے عائد کرنے اور مارکیٹوں، بازاروں، سبزی، پھل اور غلہ منڈیوں میں کچرا پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔ اجلاس میں ہر ضلع میں صفائی کے لیے مطلوبہ عملے اور مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کے اہداف مقرر کیے گئے جبکہ دیہات میں ایک دن کے وقفے سے صفائی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو فیلڈ مانیٹرنگ افسران کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے اور ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تمام شہروں اور علاقوں میں صفائی عملے کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ورکر کو اجرت کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ مریم نواز نے ڈپٹی کمشنرز سے صفائی کے لیے درکار مشینری کی تفصیلات اور خود آپریشن ماڈل کے تحت متوقع بچت کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا۔ اجلاس میں خالی پلاٹوں میں کچرا پھینکے جانے کی صورت میں مالکان پر جرمانے عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، مظفرگڑھ اور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے علاقوں میں صفائی کے انتظامات سے متعلق رپورٹس پیش کیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع میں صفائی کی مشینری اور آلات کی دستیابی اور حالت کا خود معائنہ کریں۔ انہوں نے ستھرا پنجاب پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہفتے بعد دوبارہ اجلاس طلب کرنے کی بھی ہدایت کردی۔