Friday, October 2

وزیراعظم شہباز شریف کی کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات کی ہدایت

PM Shehbaz Directs Comprehensive Regulatory Reforms to Facilitate Business and Investment

اسلام آباد، 2 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں سہولت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، حکومت کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے اور غیر ضروری ضوابط کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں اصلاحات کے ذریعے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے اور دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اسی طرز کی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ وزیراعظم نے تمام ریگولیٹری تقاضوں، قواعد اور ضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت مرتب کرنے کے لیے ریگولیٹری رجسٹری قائم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ پر ملک بھر میں عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ تمام صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آسکیں۔ وزیراعظم نے اصلاحات کے عملی اثرات اور افادیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کاروبار میں آسانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کیے بغیر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ وزیراعظم نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی جانب سے کی گئی ریگولیٹری اصلاحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ہدایت کی تاکہ کاروباری برادری ان اصلاحات اور دستیاب سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے وفد کو تمام صوبوں کا دورہ کرنے اور ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے مشیر صنعت ہارون اختر خان کو وفد کی قیادت کرنے اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی۔

وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو کابینہ سے منظور شدہ اصلاحات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کونسل اور چیف سیکریٹری پنجاب کو مارچ 2027 تک ’’ای بز پنجاب‘‘ اور ’’بی ایف سی اسلام آباد‘‘ کے انضمام کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری اداروں کو عملی اور واضح فوائد حاصل ہونے چاہئیں، جبکہ کونسل کو نجی شعبے کے ساتھ فعال تعاون اور دستیاب سہولیات سے متعلق مؤثر آگاہی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو کاروبار میں آسانی کے لیے حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کو پنجاب حکومت کے ای بز کے طرز پر جدید بنایا جا رہا ہے جبکہ ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے ساتھ ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے رابطے میں ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے 7 کثیر شعبہ جاتی شعبوں میں 557 اصلاحات کی منظوری دی ہے، جن سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹرز میں موصول ہونے والی 8,717 درخواستوں پر عملدرآمد شروع کیا گیا، جن میں سے 71 فیصد مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ اسلام آباد بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر نے 4,612 نئے کاروباروں کو سہولیات فراہم کی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے علاوہ کونسل پالیسی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی کام کر رہا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان، صوبائی وزیر خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔