پشاور، 22 اکتوبر 2026(نوشین): وزیراعظم شہباز شریف پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور امن و امان سے متعلق چیلنجز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم جمعرات کو ایک روزہ دورے پر پشاور پہنچے، جو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں صوبے کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا یہ دورہ 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہونے والی اہم سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت بالترتیب ان اقدامات کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے ان اقدامات کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا تھا۔ فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور مشیروں نے اپنے عہدے چھوڑ دیے، جبکہ انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے۔ وفاقی حکومت نے گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا۔ ان اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، اپر جنوبی وزیرستان، لوئر جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔
