کھٹمنڈو/بیجنگ، 31 اگست 2026 (نوشین): نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی ٹیموں نے چینی اور بھارتی ماہرین کی مدد سے رات بھر آپریشن جاری رکھا تاکہ پن بجلی کے منصوبوں کی ملبے سے بند سرنگوں میں پھنسے سیکڑوں افراد تک پہنچا جا سکے۔ نیپال اور تبت کی سرحد پر بدھ کے روز برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے کے اچانک بڑے پیمانے پر آنے والے ریلے، جس کی وجہ مبینہ طور پر گلیشیئر کا ٹوٹنا بتایا گیا ہے، کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں لاپتا ہو گئے ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کا مرکز ان سیکڑوں کارکنوں تک پہنچنا ہے جو تقریباً نصف درجن پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ سرنگیں کیچڑ اور چٹانوں کے ملبے سے بند ہو چکی ہیں۔ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے سرنگوں سے کیچڑ اور چٹانیں ہٹانے میں مصروف ہیں۔ فوجی اہلکار اور دیگر امدادی کارکن بھی مشکل حالات میں بڑے گڑھوں اور ملبے کے درمیان ممکنہ زندہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پن بجلی کے منصوبوں سے وابستہ 933 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انٹرنیشنل ریڈ کراس کے مطابق اس قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ چین نے اس تباہی کی شدت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بھی جوڑا ہے۔ نیپالی حکام نے پیر کو بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 903 افراد ہلاک جبکہ 4,247 افراد لاپتا ہیں، جن میں پن بجلی منصوبوں سے لاپتا ہونے والے 933 افراد بھی شامل ہیں۔ سیلابی ریلے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والی سیکڑوں لاشوں کو، جن میں بیشتر کی شناخت نہیں ہو سکی، مرطوب موسم کے باعث گلنے سڑنے سے پہلے کم گہرائی والی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ سرحد کے دوسری جانب چین کے علاقے گییرونگ کاؤنٹی میں حکام کے مطابق 16 افراد ہلاک جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں۔ حکام اور بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی جانب سے لاپتا افراد کی تلاش، بند علاقوں سے ملبہ ہٹانے اور تباہ کن سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے امدادی و بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں۔
