Tuesday, September 1

نیپال میں بڑے پیمانے پر تدفین، سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی

Mass Burials in Nepal as Flash Flood Death Toll Exceeds 1,000

کھٹمنڈو، 1 ستمبر 2026 (کامران راجہ): نیپال اور چین کی سرحد کے قریب ریسکیو ٹیمیں سرچ کتوں کی مدد سے منگل کے روز بھی کیچڑ، چٹانوں اور ملبے میں ہزاروں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تباہ کن سیلاب نے ہمالیائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ نیپال کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,003 ہو گئی ہے جبکہ 3,916 افراد لاپتا ہیں، جن میں 583 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ چین نے 16 ہلاکتوں اور 546 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ریسکیو اہلکار سیلاب سے متاثرہ پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں کارکنوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق 12 منصوبوں سے تقریباً 900 کارکن لاپتا ہیں، جن میں لگ بھگ 500 کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ نیپالی اور غیر ملکی امدادی ٹیمیں بھاری مشینری، ہیلی کاپٹروں اور سرچ کتوں کی مدد سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کھٹمنڈو میں نامعلوم لاشوں کو عارضی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے جبکہ ڈی این اے نمونے، تصاویر اور دیگر شناختی معلومات محفوظ کی جا رہی ہیں تاکہ بعد میں لواحقین کو لاشوں کی شناخت اور حوالگی میں مدد مل سکے۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 11,814 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔ یہ تباہی ہمالیہ میں ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں شروع ہوئی، جس سے بڑی مقدار میں چٹانیں، برف اور پگھلا ہوا پانی وادیوں میں داخل ہوا اور دریاؤں میں اچانک طغیانی آ گئی۔ سیلابی ریلوں نے گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بہا دیا۔ چین نے نیپال کے لیے مزید امدادی سامان اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ماہرین بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ یہ سانحہ ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات کے مسئلے پر مزید توجہ دی جائے۔