
اسلام آباد، 04 اگست 2026 (غفران): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ایجنڈے میں نئے صوبوں کے قیام کی کوئی تجویز شامل نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کوئی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام اور 1973 کا آئین آج بھی مؤثر اور مضبوط ہے اور ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ منگل کے روز ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی قسم کی مشاورت یا غور و فکر نہیں کیا جا رہا اور یہ معاملہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران سیاسی بحرانوں، فوجی مداخلتوں اور مختلف نوعیت کے عدم استحکام کے باوجود 1973 کے آئین اور پارلیمانی نظام نے وفاق کو مضبوط اور متحد رکھا۔ ان کے مطابق مسئلہ نظام میں نہیں بلکہ آئین پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہونے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئینی اصولوں پر مکمل عمل کیا جائے تو موجودہ نظام ہی بہترین نتائج دے سکتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انتخابی عمل کو آزاد، منصفانہ اور شفاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں اپنی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل ہوئی، جس کے مثبت اثرات آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ انتخابات کے آئندہ مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) نمایاں کامیابی حاصل کرے گی اور کسی اتحادی جماعت کی ضرورت کے بغیر آزاد جموں و کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے انتخابی عمل پر تنقید کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلاول بھٹو بخوبی جانتے ہیں کہ انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہوئے ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ پولنگ کے آخری مرحلے کے بعد پیپلز پارٹی بھی انتخابی نتائج کو تسلیم کر لے گی۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ملک کی ترقی کے لیے نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ آئین پر اس کی اصل روح کے مطابق مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔