لاہور، 8 ستمبر 2026 (کامران راجہ): لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر متفرق درخواست پر سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے جس میں انہیں گلوکار علی ظفر سے متعلق ہتک عزت کے مقدمے میں 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کی۔ اپنی درخواست میں میشا شفیع نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ہتک عزت کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے حقائق اور متعلقہ قانون کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کے میرٹ پر فیصلہ کیے بغیر ہتک عزت کی کارروائی مکمل کی گئی۔ میشا شفیع نے عدالت کو بتایا کہ ان کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق مقدمہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ کسی ایسے الزام کو، جو ابھی ثابت نہیں ہوا، محض اس بنیاد پر خود بخود جھوٹا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ تاحال ثابت نہیں ہوا۔ میشا شفیع نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ اس سے قبل ہرجانے کی حد تک ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کر چکی ہے۔ تازہ سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ فریق کو میشا شفیع کی متفرق درخواست پر سات روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ یہ تنازع میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر عائد کیے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ہتک عزت کی کارروائی میں میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ میشا شفیع نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، اس لیے معاملہ تاحال عدالتی غور و خوض میں ہے اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اپیل کی کارروائی کا حتمی نتیجہ نہیں ہے۔
