اسلام آباد، 06 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان میں امریکی مشن نے زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع کو اجاگر کیا ہے، جس کا مقصد جدت، سرمایہ کاری اور پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے اس حوالے سے رواں ہفتے منعقدہ ایک ڈائریکٹ لائن ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے تعاون کے فروغ کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ ویبینار میں امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں، پاکستانی حکومتی حکام اور زرعی مصنوعات کے شعبے سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ ویبینار بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ. کے زیر اہتمام امریکی سفارتخانے اسلام آباد، امریکی محکمہ تجارت اور حکومت پاکستان کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔
نٹالی بیکر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی زرعی ٹیکنالوجی اور مہارت کے زیادہ استعمال سے پاکستان کو زرعی شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے، پیداوار بڑھانے اور دونوں ممالک کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “امریکی کمپنیاں اپنی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور دہائیوں پر محیط عملی تجربے کے ذریعے اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی جدت پر مبنی ٹیکنالوجیز، جن میں جدید زرعی مشینری، جدید آبپاشی نظام، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ اور کولڈ چین لاجسٹکس شامل ہیں، کسانوں کو پیداوار میں اضافے اور وسائل کے بہتر استعمال میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ نٹالی بیکر نے کہا کہ زرعی تعاون میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ سال 2025 میں امریکہ سے پاکستان کو زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات 1.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔
ویبینار کے دوران پاکستانی شرکاء نے امریکی زرعی مصنوعات، جن میں سویابین، کپاس اور بیج شامل ہیں، کی درآمدات میں سہولت کے لیے کیے جانے والے پالیسی اور ضابطہ جاتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے زرعی مشینری، کنٹرولڈ ایٹماسفیئر اسٹوریج، فوڈ پروسیسنگ، بیجوں کی ترقی اور بائیوٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔ امریکی ناظم الامور نے امریکی سرمایہ کاری کے طویل المدتی فوائد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکی کمپنیاں نئی منڈیوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کراتی ہیں تو وہ علم کا تبادلہ کرتی ہیں، مقامی شراکت داروں کی تربیت کرتی ہیں، دیرپا کاروباری روابط قائم کرتی ہیں اور پائیدار معاشی ترقی میں کردار ادا کرتی ہیں۔
ویبینار میں امریکی محکمہ تجارت کے زیر اہتمام سرٹیفائیڈ ایگریکلچرل ٹیکنالوجیز ٹریڈ مشن ٹو پاکستان پر بھی گفتگو کی گئی، جو 26 سے 30 اکتوبر 2026 تک پاکستان میں منعقد ہوگا اور اس کی قیادت کرے گا۔ نٹالی بیکر نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ پروسیسنگ شعبوں میں مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں امریکی کاروباری اداروں کے لیے مواقع تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنا امریکی سفارتخانے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے BCIU، حکومت پاکستان، پنجاب اور سندھ کے صوبائی حکام، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو اور شریک امریکی کمپنیوں کا پاک-امریکہ زرعی تعاون کے فروغ میں شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔
