Thursday, October 22

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کیس میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کر لیا

LHC Summons Punjab Home Secretary, Kot Lakhpat Jail Chief in Imran Khan’s Sisters’ Detention Case

لاہور، 22 اکتوبر 2026(غفران): لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کی مسلسل نظربندی کو چیلنج کرنے کے مقدمے میں پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس ابر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی، جس میں علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی بازیابی اور رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ تینوں خواتین پاکستان تحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاج کے سلسلے میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت نظربند ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں خواتین کی 30 روزہ نظربندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔ جسٹس ابر گل خان نے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ اس پر وکیل نے وضاحت کی کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نظربندی کا نوٹیفکیشن ختم ہو چکا تھا، اسی لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔ دورانِ سماعت عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کیا جائے، تاہم جج نے ریمارکس دیے کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر مقدمے میں فریق نہیں ہیں، اس لیے انہیں طلب نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست کے مطابق تینوں بہنیں 30 روزہ نظربندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود بدستور زیرِ حراست ہیں۔ نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ احتجاج سے قبل حراست میں لیا گیا تھا، جسے بعد ازاں 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا، جبکہ علیمہ خان کو ایک روز قبل 20 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شہریز خان نے جمعرات کی سماعت سے ایک روز قبل لاہور ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کرتے ہوئے تینوں خواتین کی مسلسل نظربندی کو چیلنج کیا اور ان کی رہائی کی استدعا کی۔