
لاہور، 17 ستمبر 2026 (نوشین): لاہور ہائیکورٹ نے پاکستانی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران محمد رضوان کے وکیل امیر قاضی نے مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے نے کرکٹر کو بلاجواز نوٹسز جاری کیے اور جس معاملے پر نوٹسز جاری کیے گئے وہ ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ وکیل نے عدالت سے این سی سی آئی اے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے محمد رضوان کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے اور این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ نوٹسز کا جواب پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے، تاہم این سی سی آئی اے نے جواب مسترد کرتے ہوئے کرکٹر کو دوبارہ طلب کرلیا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کی کارروائی کے خلاف درخواست خارج کردی۔ محمد رضوان اور پاکستانی کرکٹر امام الحق 10 ستمبر کو انگلینڈ کے دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات لیک ہونے کی تحقیقات کے سلسلے میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ این سی سی آئی اے کھلاڑیوں کے موبائل فونز سے حاصل ہونے والی معلومات، انگلینڈ کے دورے کے دوران ان کی سرگرمیوں اور رابطوں سمیت ڈریسنگ روم سے مبینہ معلومات کے اخراج کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے موبائل فونز این سی سی آئی اے کے حوالے کیے ہیں، جبکہ ایک اور پاکستانی کھلاڑی کو بھی سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی ناقص کارکردگی کے بعد پی سی بی کی جانب سے نظم و ضبط اور طرز عمل سے متعلق اندرونی تحقیقات شروع کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔ پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز میں بھاری شکست کے بعد سات کھلاڑیوں کو بھی پاکستان واپس بلا لیا تھا۔