
اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستانی اداکار فیصل قریشی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی شادی کے بعد بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ بیٹے اور بیٹیاں دونوں والدین کی نظر میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹی وی پروگرام گپ شب میں میزبان واسع چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی نے اپنے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے اس سوچ کی مخالفت کی تھی کہ شادی شدہ بیٹی صرف اپنی وفات کے بعد ہی والدین کے گھر واپس آ سکتی ہے۔ فیصل قریشی نے کہا کہ بیٹی بھی والدین کی اولاد ہوتی ہے، اس لیے اگر والدین زندہ ہیں اور اللہ نے انہیں طاقت دی ہے تو انہیں اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ والدین اپنی بیٹی کی پرورش کرنے کے بعد مشکلات کے وقت اس کا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ اداکار نے کہا کہ اگر کسی بیٹی کو تشدد یا بدسلوکی کا سامنا ہو تو والدین کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے بلکہ اس کی حفاظت اور حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق شوبز انڈسٹری میں بھی سوچ تبدیل ہو رہی ہے اور ٹی وی ڈراموں میں ایسے والد دکھائے جا رہے ہیں جو اپنی بیٹیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ فیصل قریشی نے ایک ڈرامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شمائل خان کو مروہ حسین کے والد کے کردار میں اپنی بیٹی کا ساتھ دیتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے اولاد بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں برابر اہم ہیں اور والدین کو ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ فیصل قریشی نے اپنی آنے والی فلم منگو جٹ کے ایک مکالمے کا بھی ذکر کیا، جس میں وہ اپنی ساتھی اداکارہ حریم فاروق سے کہتے ہیں کہ جب تم پیچھے مڑ کر دیکھو گی تو میں وہیں کھڑا ہوں گا۔ فیصل قریشی اور حریم فاروق فلم کی تشہیر کے لیے پروگرام گپ شب میں شریک ہوئے تھے، جسے حریم فاروق نے پروڈیوس بھی کیا ہے۔ پروگرام کے دوران حریم فاروق نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے پنجابی فلم بنانا چاہتی تھیں اور انہیں منگو جٹ کے ذریعے یہ موقع ملا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فیصل قریشی نے ایکشن فلم میں اپنے تمام اسٹنٹس خود کیے ہیں۔