
اسلام آباد، 15 ستمبر 2026 (کامران راجہ): اقوام متحدہ کے ادارے برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے کہا ہے کہ غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والے ایک اسکول پر اسرائیلی حملوں میں اقوام متحدہ کے 6 اہلکار اور شہری جاں بحق ہوگئے، جبکہ محصور علاقے میں انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انروا کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچن سانڈرز نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی انسانی امدادی کارکنوں، تنصیبات اور کارروائیوں کی سلامتی کو کھلم کھلا نظر انداز کیا گیا ہے، جبکہ مسلسل عدم احتساب بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی اہمیت کو مزید کمزور کرے گا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوچا) کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کے کمزور جنگ بندی معاہدے کے بعد سے غزہ میں کم از کم 1,334 افراد جاں بحق اور 4,429 زخمی ہوچکے ہیں۔ اوچا نے کہا کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں، گولہ باری، فائرنگ اور بحری حملوں سمیت فوجی کارروائیاں جاری ہیں، خصوصاً نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ کے مغرب میں، جبکہ غزہ میں ہر 10 میں سے 9 افراد اندرونِ علاقہ بے گھر ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گنجان آباد پناہ گاہوں، ناکافی رہائش اور صاف پانی و صفائی کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جبکہ ضروری سامان کی رسد پر پابندیاں موسم سرما کی تیاریوں اور اہم بنیادی خدمات میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ یونیسیف نے بھی گزشتہ ہفتے حملوں میں متعدد بچوں کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے ہر بچے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں نے لبنانی سرزمین کے اندر اسرائیلی فوجی سرگرمیوں، جن میں فضائی حملے، توپ خانے کی کارروائیاں، فوجی نقل و حرکت اور لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں شامل ہیں، کا مشاہدہ جاری رکھا۔ اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (یونیفل) نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرونز نے المنصوری کے قریب دھماکا خیز مواد سے بھرے کین گرائے، جبکہ جمعرات سے اتوار کے دوران اس کے زیرِ انتظام علاقے میں کم از کم 32 فضائی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے امن دستوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیفل کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق فرائض کی انجام دہی میں کسی رکاوٹ کے بغیر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باوجود یونیفل نے انسانی امدادی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھی اور اوچا کے تعاون سے 16 امدادی مشنز کی سہولت کاری کی۔