Thursday, August 20

غزہ میں اسمگلنگ میں اضافے کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

Prices Soar in Gaza as Smuggling of Restricted Goods Booms

غزہ، 20 اگست 2026 (غفران): غزہ میں اسرائیل کی جانب سے محدود یا ممنوع قرار دی گئی اشیاء کی اسمگلنگ میں اضافے کے باعث ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ تاجروں، حکام اور شہریوں کے مطابق اسمگلنگ میں ملوث افراد اور دیگر درمیانی کردار بھاری منافع کما رہے ہیں۔ دستاویزی شواہد اور تاجروں، ٹرک ڈرائیوروں، حکام اور شہریوں سے کی گئی گفتگو پر مبنی تحقیقات کے مطابق فلسطینی شہری گروسری اور بیٹریوں سمیت مختلف اشیاء مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ اسپتال ادویات اور طبی آلات کے حصول کے لیے بھی اسمگلروں سے رجوع کر رہے ہیں۔ سگریٹ اور تمباکو، جن کی غزہ میں اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے داخلے پر پابندی ہے، اسمگلروں اور تاجروں کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش اشیاء میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ آئی فونز، سولر پینلز، ایندھن اور طبی بے ہوشی کی ادویات سمیت مختلف اشیاء بھی غیر قانونی ذرائع سے غزہ پہنچائی جا رہی ہیں۔

اسرائیل بعض اشیاء کی غزہ میں داخلے کی مقدار محدود کرتا ہے جبکہ دیگر پر مکمل پابندی عائد ہے۔ بعض اشیاء کو ’’دوہری استعمال‘‘ کی حامل قرار دیا جاتا ہے، جن میں کنکریٹ، گاڑیوں کے پرزے اور ایکسرے مشینیں شامل ہیں، کیونکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ انہیں حماس عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ ضروری اشیاء کی شدید قلت اور پابندیوں کے باعث غیر قانونی تجارت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور شہریوں و اداروں کا غیر رسمی سپلائی نیٹ ورک پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ تحقیقات میں اسرائیلی عدالتوں کی دستاویزات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ بڑے تاجروں، دکانداروں اور ٹرک ڈرائیوروں سے گفتگو کی گئی، جو اسمگل شدہ اشیاء کی درآمد یا فروخت میں ملوث ہیں۔ فلسطینی حکام، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور شہریوں نے بھی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے روزمرہ زندگی پر اثرات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ متعدد افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، کیونکہ انہیں اپنی سلامتی، ممکنہ انتقامی کارروائی اور غیر قانونی تجارت میں ملوث ہونے کے باعث خدشات لاحق تھے۔تحقیقات کے مطابق اشیاء کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے ایک منافع بخش بلیک مارکیٹ کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے، جہاں غزہ میں ضروری اشیاء تیزی سے بلند قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔