Thursday, August 20

کیف کے علاقے میں روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک

Russian Missile and Drone Barrage Kills at Least 16 in Kyiv Region

کیف، 20 اگست 2026 (کامران راجہ): روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح پر رات بھر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوگئے، یوکرینی حکام نے جمعرات کو بتایا۔ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے اور ان میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ جیٹ انجن والے ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، جس سے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ حملوں میں ملک بھر کے 28 مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ایک بڑے حملے قرار دیا جس کا مقصد شہری تنصیبات کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق کیف میں 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص کیف کے وسیع تر علاقے میں جان سے گیا۔ حملوں کے نتیجے میں دارالحکومت کے مختلف اضلاع میں تقریباً 30 رہائشی عمارتوں، ایک اسکول، بچوں کے اسپتال اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔رات بھر جاری حملوں کے دوران 38 ہزار سے زائد افراد، جن میں 2 ہزار سے زیادہ بچے شامل تھے، کیف کے زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافے نے ملک کے فضائی دفاعی نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، جبکہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی کمی بھی درپیش ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے یوکرین کے مؤثر ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے کیف میں کروز میزائلوں کے پرزے تیار کرنے والی ایک صنعتی تنصیب کے علاوہ ڈرونز کی تیاری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات، ایک اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک مرکز کو بھی نشانہ بنایا۔دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس کے تاتارستان خطے کے شہر نزنی کامسک میں ایک آئل ریفائنری اور کراسنودار خطے میں تمان نفتی گیس آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے روس کے مختلف علاقوں، الحاق شدہ کریمیا اور بحیرہ اسود و بحیرہ آزوف کے اوپر رات بھر میں 726 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔ تازہ حملوں کے باعث یورپ کے پڑوسی ممالک میں بھی تشویش بڑھ گئی۔ پولینڈ نے فوجی طیارہ آپریشنز، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار نگرانی فعال کردی، جبکہ پولش اور دیگر نیٹو طیاروں نے اس کی فضائی حدود کی نگرانی کی۔ رومانیہ نے بھی یوکرین کی سرحد کے قریب ایک ڈرون کے گر کر تباہ ہونے کی اطلاع دی اور فضائی اہداف کی نگرانی کے لیے جنگی طیارے تعینات کیے۔ مالدووا کی وزارت دفاع نے بھی اپنی فضائی حدود میں کم از کم ایک ڈرون کی خلاف ورزی کی اطلاع دی۔تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں فریق ڈرونز اور میزائلوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 1,250 کلومیٹر طویل محاذ پر لڑائی بدستور جاری ہے۔