
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پیداواری شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توجہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے صنعتی تعاون، کاروباری اداروں کے درمیان سرمایہ کاری، جدت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ چائنا ڈیلی میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی اعتماد، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے احترام، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی دیرینہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے سی پیک کو دونوں ممالک کی ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کا نمایاں معاشی مظہر اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم منصوبہ قرار دیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے 43 منصوبے مکمل کیے گئے، جن میں توانائی کے 17 منصوبے شامل ہیں، جن کے ذریعے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8,900 میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ کوئلے کی دو کانیں اور مٹیاری لاہور ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائن بھی ان منصوبوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ٹرانسپورٹ منصوبوں سے رابطوں میں بہتری آئی جبکہ تقریباً دو لاکھ براہ راست ملازمتیں بھی پیدا ہوئیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی ترقیاتی فریم ورک ’’اڑان پاکستان‘‘ کی تکمیل کرتے ہوئے صنعتی ترقی، جدت، ماحول دوست ترقی، روزگار اور علاقائی رابطوں کو فروغ دے گا۔ انہوں نے صنعتی ترقی کو سی پیک کے نئے مرحلے کا بنیادی محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی کاروباری اداروں کے لیے ایک بڑی منڈی، نوجوان افرادی قوت، قدرتی وسائل اور بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک پیداوار اور برآمدات کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ احسن اقبال نے پائیدار سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پالیسیوں کے تسلسل، جدید بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت، سرمایہ کاری میں سہولت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین زراعت، کان کنی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ای کامرس، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور صنعتی خودکاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت میں مشترکہ تحقیق، ہنرمندی کے فروغ، جدید صنعتی پیداوار، معدنیات کی تلاش، قدرتی آفات کی پیش گوئی، ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل تعلیم میں تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر نے سی پیک 2.0 کے اہم ستون کے طور پر پاکستان چین نالج کوریڈور کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، تکنیکی تربیت اور عملی تربیتی پروگرام نوجوانوں کو علاقائی اور عالمی روزگار کے مواقع کے لیے تیار کرنے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے گوادر کو راہداری کے مستقبل کا ایک اہم اسٹریٹجک جزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور فری زون کو گوداموں، ماہی گیری، اشیا کی پراسیسنگ، سیاحت، کسٹمز خدمات اور مقامی کاروباروں سے منسلک کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ زیادہ معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی کا انحصار مسلسل عمل درآمد اور دونوں ممالک کے قریبی تعاون پر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2047 تک سی پیک پاکستان کو زیادہ مستحکم، جدت پسند اور مسابقتی معیشت بنانے میں دیرپا کردار ادا کرے گی اور مشترکہ خوشحالی، علاقائی رابطوں اور پاکستان چین مشترکہ مستقبل کی مضبوط برادری کے قیام میں مددگار ثابت ہوگی۔