
دبئی/قاہرہ، 18 ستمبر 2026 (کامران راجہ): سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے درمیان سرحد کے آرپار تازہ حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ لڑائی یمن اور سعودی عرب تک پھیلنے سے مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حوثی زیرِ انتظام ٹی وی کے مطابق سعودی طیاروں نے بحیرہ احمر کے قریب سعودی سرحد سے متصل حجہ صوبے اور مزید جنوب میں تعز کے اطراف میں فضائی حملے کیے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق مغربی شہر طائف کے اوپر ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی زد میں آکر سعودی عرب میں مقیم ایک یمنی شہری ہلاک ہوگیا۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بھی بتایا کہ ٹوگو کے پرچم والے ایک آئل ٹینکر میں آبنائے ہرمز سے مبینہ طور پر ’’غیر قانونی گزرنے‘‘ کی کوشش کے دوران نشانہ بننے کے بعد آگ لگ گئی۔ لڑائی میں اضافے سے عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک محدود ہے جبکہ بحیرہ احمر کا راستہ بھی سکیورٹی خطرات کی زد میں ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث ایک لاکھ سے زائد یمنی بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں بعض شہری باب المندب آبنائے کے راستے کشتیوں کے ذریعے جبوتی پہنچ رہے ہیں۔ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی ناکہ بندی اور یمن میں مبینہ قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب امریکا آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی رہنمائی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی بھی عائد کر رکھی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔