
واشنگٹن، 7 نومبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد اپنے دیرینہ وفادار ساتھی اور سخت گیر پالیسیوں کے حامی مشیر اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے، جنہوں نے سوزی وائلز کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ اس تقرری کے نتیجے میں ٹرمپ کے بااثر ترین مشیروں میں شمار ہونے والے اسٹیفن ملر کو ایسے وقت میں وائٹ ہاؤس کے انتظامی امور کی سربراہی سونپی گئی ہے جب صدر کو ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ کانگریس کی ممکنہ تحقیقات کا بھی سامنا ہوگا۔ وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق ملر کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر انتخابی شکست کے بعد اپنی داخلی اور سیاسی پالیسیوں میں نرمی کے بجائے سخت گیر حکمت عملی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر تقرری کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیفن ملر کو اپنے انتہائی قابل اعتماد مشیروں میں سے ایک قرار دیا اور سوزی وائلز کی خدمات کو بھی سراہا۔ نئی تقرری 9 نومبر سے مؤثر ہوگی، جبکہ سوزی وائلز، جنہوں نے جمعرات کی شب استعفیٰ دیا تھا، اب ٹرمپ کے سیاسی امور سے متعلق تنظیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ اسٹیفن ملر اس سے قبل سوزی وائلز کے نائب چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور 2017 سے 2021 تک ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ 2025 میں دوبارہ وائٹ ہاؤس کا حصہ بنے اور صدر کے داخلی پالیسی ایجنڈے، بالخصوص امیگریشن پالیسی، پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ملر کو ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے، جن میں روزانہ 3 ہزار گرفتاریاں کرنے کا ہدف بھی شامل تھا۔ ان پالیسیوں کے تحت وفاقی امیگریشن حکام نے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ایسے تارکین وطن کو بھی نشانہ بنایا جو کئی دہائیوں سے امریکا میں مقیم تھے۔ اسٹیفن ملر کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ٹرمپ کو بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی برتری نے ان کے قانون سازی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔ انتخابی شکست سے قبل بھی ٹرمپ اپنی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت اور سیاسی و ابلاغی ٹیموں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنے معاونین کو ہدایت کی تھی کہ ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل وائٹ ہاؤس کو زیادہ جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صدر اپنے وفادار ساتھیوں کو نواز رہے ہیں اور اپنی پالیسیوں کا راستہ تبدیل نہیں کر رہے۔ سوزی وائلز جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز سے وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز تھیں اور اس منصب پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہیں ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیوں اور وائٹ ہاؤس کی ٹیم میں نظم و ضبط اور بہتر انتظامی صلاحیتیں متعارف کرانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔