
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (غفران): سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے مبینہ حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زائد ایمبولینسیں زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ہوائی اڈے پہنچیں، جبکہ طبی عملے کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں میں طلب کر لیا گیا۔ ملکی پروازوں کے ٹرمینل میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گیٹ نمبر 401 کو نشانہ بنایا گیا اور اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے زخمی افراد کو دیکھا، جس کے بعد مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے ہوائی اڈے پر حملوں کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ہوائی اڈے اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے بھی اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے سے دور رہنے کا مشورہ دیا، جبکہ برطانوی دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی کہ ہوائی اڈے کو محفوظ قرار دیے جانے تک وہاں جانے سے گریز کریں اور سعودی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔ سکیورٹی صورت حال کے باعث خلیجی ممالک کی متعدد فضائی کمپنیوں نے ریاض آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ پروازوں کی نگرانی کرنے والے نظام کے مطابق کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا یا انہیں منسوخ کر دیا گیا۔ یہ حملہ سعودی ہوائی اڈوں پر حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد مہلک حملوں کے بعد کیا گیا ہے، جن میں سعودی شہریوں اور ایک پائلٹ کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور ملک کے شمال مغربی حصے کے بڑے علاقے پر قابض حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے۔