
لزبن، 7 اکتوبر 2026 (غفران): پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے ہیڈ کوچ جارج جیسس پر حالیہ میچز میں انہیں ٹیم سے باہر رکھنے کے معاملے پر دو مرتبہ اپنا وعدہ توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کے باعث وہ قومی ٹیم کے کیمپ سے چلے گئے، تاہم وہ مستقبل میں پرتگال کی نمائندگی کے لیے دستیاب رہیں گے۔ 41 سالہ فارورڈ نے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ جارج جیسس نے ابتدا میں اتفاق کیا تھا کہ وہ فٹنس بہتر بنانے کے لیے ناروے اور ڈنمارک کے خلاف میچز نہیں کھیلیں گے، تاہم بعد میں کوچ نے انہیں ناروے کے خلاف 30 منٹ کھیلنے کا بتایا۔ رونالڈو کے مطابق انہوں نے دوسرے ہاف کے آغاز سے وارم اپ کیا لیکن انہیں میدان میں نہیں اتارا گیا، جسے انہوں نے کوچ کی جانب سے وعدہ توڑنے کا پہلا واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں النصر کے اسپورٹس ڈائریکٹر سیماؤ کوتینہو کی موجودگی میں ایک ملاقات ہوئی، جس میں جارج جیسس کی جانب سے معاملے کی عوامی سطح پر وضاحت کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاہم رونالڈو کا کہنا ہے کہ کوچ کے بعد کے بیانات نجی ملاقات میں طے پانے والی باتوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، جس کے بعد انہوں نے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جارج جیسس نے بعد میں کسی ایسے معاہدے کی تردید کی، تاہم رونالڈو کی قومی ٹیم میں واپسی کا راستہ کھلا رکھا۔ رونالڈو نے ناروے کے خلاف میچ کے بعد شائقین کو الوداع نہ کہنے اور ساتھی کھلاڑیوں کو چھوڑنے پر معذرت بھی کی اور تسلیم کیا کہ بطور کپتان ان کا طرز عمل زیادہ سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سزا کا فیصلہ پرتگالی فٹبال فیڈریشن کو کرنا چاہیے، تاہم سزا مکمل کرنے کے بعد اگر وہ جسمانی طور پر فٹ اور اپنے کلب کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہوئے تو وہ ہمیشہ کی طرح پرتگال کی نمائندگی کے لیے دستیاب رہیں گے۔