Sunday, October 11

خیبر پختونخوا میں دو سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ، سکیورٹی رپورٹس میں انکشاف

Terrorism Incidents in KP Surge 195% in Two Years, Security Reports Reveal

اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا انکشاف وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے پیش کی گئی دو خصوصی سکیورٹی رپورٹس میں کیا گیا۔ رپورٹس میں دہشت گرد حملوں میں تیزی سے اضافے کو سکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی، مقامی سہولت کاروں اور صوبائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں خامیوں کو اہم عوامل قرار دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دہشت گرد نیٹ ورکس، مقامی سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روابط بھی سکیورٹی کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ 2026 کے دوران ریکارڈ کیے گئے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد عناصر کی جانب سے ڈرون حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر ڈرون حملوں کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، تاہم 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) کے حملے بھی تشویش کا باعث رہے، جن کی تعداد 2025 میں 181 ریکارڈ کی گئی، جبکہ ستمبر 2026 تک 159 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹس میں بدلتی ہوئی دہشت گردانہ حکمت عملیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتیں مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق صوبے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے باوجود سیف سٹی منصوبہ صرف پشاور تک محدود ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد اسامیاں خالی ہیں، جبکہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو جدید اسلحے، آپریشنل آلات، نگرانی کے نظام، نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات کی کمی کا سامنا ہے۔ رپورٹس میں دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند گاڑیوں کی کمی کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے باعث پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں پولیس کو تربیت، وسائل اور عملی صلاحیتوں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس ہونے کے باوجود سی ٹی ڈی تربیت یافتہ اہلکاروں کی شدید کمی سے دوچار ہے اور افرادی قوت کے لیے عام پولیس پر انحصار کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل مراکز اور خصوصی بنیادی ڈھانچے بھی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ کابینہ کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، ادارہ جاتی کمزوریوں اور انتظامی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹس میں سکیورٹی اداروں کی صلاحیت، صوبائی تیاریوں اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں خامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اداروں کو مضبوط بنانے، وسائل میں اضافے اور مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔