
کراچی، 17 ستمبر 2026 (غفران): پاکستان کی خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان میں بھوک کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات کراچی میں ڈبلیو ایف پی پاکستان کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان، سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو بھی شریک تھے۔ ڈبلیو ایف پی کے وفد نے خاتونِ اول کو غذائیت، غذائی تحفظ، اسکول میلز اور موسمیاتی لچک سے متعلق پروگراموں، بالخصوص بینظیر نشوونما پروگرام میں تعاون کے بارے میں بریفنگ دی۔ وفد کے مطابق بینظیر نشوونما پروگرام کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں 30 لاکھ سے زائد خواتین اور بچوں تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے، جن میں سندھ کے 17 لاکھ سے زائد مستحقین شامل ہیں۔ وفد نے 4 کروڑ ڈالر کے اسکول میلز پروگرام کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جس کے تحت ملیر اور کیماڑی کے 614 سرکاری اسکولوں میں ایک لاکھ بچوں کو سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شدید غذائی قلت، مائیکرو نیوٹرینٹ کی کمی، واش اور موسمیاتی لچک سے متعلق اقدامات بھی جاری ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری نے بینظیر نشوونما پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ماں اور بچے کی صحت، ماں کا دودھ پلانے، حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت، ابتدائی بچپن کی نشوونما، بچوں کی اموات اور کم قد کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسکول میلز پروگرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی کچن ماڈلز میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اسکولوں میں زرعی سرگرمیوں اور کچن گارڈنز کو فروغ دینے کی تجویز دی تاکہ بچے عملی طور پر غذائیت، زراعت اور صحت مند خوراک کے بارے میں سیکھ سکیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے خاتونِ اول نے پاکستان کی موسمیاتی خطرات سے دوچار صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کے بجائے پیشگی انتباہ، پیشگی اقدامات اور کمیونٹی کی لچک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سندھ میں تقریباً 21 لاکھ سیلاب سے محفوظ گھروں کی تعمیر کے پروگرام کو اجاگر کیا، جن کی ملکیت مستحق خاندانوں کی خواتین کو فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ انہوں نے سندھ حکومت کی ترقیاتی اور سماجی شعبے کی سرگرمیوں، بالخصوص تھر میں اقدامات کو بھی سراہا۔ ڈبلیو ایف پی کے وفد نے خاتونِ اول کو آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت اور قدرتی آفات سے روزگار اور مویشیوں کے تحفظ کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان میں زیرو ہنگر کے حصول کے لیے ڈبلیو ایف پی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ غذائیت اور غذائی تحفظ سے متعلق آگاہی اور وکالت کی مہمات میں اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے ڈبلیو ایف پی کے شیئر دی میل اقدام کے لیے بھی اپنی مسلسل حمایت کا اظہار کیا اور حکومت، اقوام متحدہ اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مستقل تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی کمزور خواتین اور بچوں کو مناسب غذائیت، صحت کی سہولیات اور تعلیم تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔