
قاہرہ، 7 اکتوبر 2026 (نوشین): یمن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایران نواز حوثی باغیوں نے بدھ کی صبح جنوبی یمنی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور دھماکا خیز مواد سے لدے ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جبکہ ایران نواز گروپ اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان کئی محاذوں پر لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شمال میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب یمنی حکومتی فورسز نے سعودی قیادت میں اتحادی فضائی مدد کے ساتھ بحیرہ احمر کے ساحل، باب المندب آبنائے اور موخا شہر کے اطراف حوثیوں کے زیر قبضہ اہم علاقوں کو واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی۔ یمنی حکومت کے مطابق اس کی فورسز نے حوثیوں کو ان علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا ہے جن پر انہوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب ایک میزائل اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی پرواز کی لینڈنگ میں چند منٹ باقی تھے، جس کے باعث حکام نے پرواز کی لینڈنگ منسوخ کرکے طیارے کو جدہ منتقل کر دیا، جبکہ رن وے پر موجود دو دیگر طیاروں کو بھی مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ حوثیوں نے فوری طور پر عدن ایئرپورٹ پر حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مزید کہا کہ اس نے جنوب مغربی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب داغا گیا حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک لیا، جبکہ یحییٰ سریع نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے ایک فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ کیا۔ تازہ کشیدگی حوثیوں کی جانب سے 2014 میں صنعا پر قبضے اور 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس نے بڑی لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا تھا تاہم یمن میں مستقل سیاسی تصفیہ نہیں ہو سکا۔