Tuesday, October 20

جاپان کا مریخ کے چاند فوبوس سے نمونے جمع کرنے کے لیے تاریخی خلائی مشن روانہ

Japan Launches Historic Mission to Collect Samples from Mars’ Moon Phobos

ٹوکیو، 20 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): جاپان نے مریخ کے چاند فوبوس کی سطح سے نمونے جمع کرنے کے لیے ایک اہم خلائی مشن روانہ کردیا ہے، جس کا مقصد مریخ کے دونوں چاندوں کی تشکیل اور نظامِ شمسی کی ابتدا سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنا ہے۔ جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی (جاکسا) کے مطابق بغیر پائلٹ کے خلائی جہاز مارٹین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) کو منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 41 منٹ پر جنوب مغربی جاپان میں واقع تانیگاشیما خلائی مرکز سے ایچ تھری راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ روانگی کے ایک گھنٹے سے زائد وقت بعد جاکسا نے تصدیق کی کہ خلائی جہاز کامیابی کے ساتھ راکٹ سے الگ ہوگیا ہے اور مریخ کے نظام کی جانب سفر کر رہا ہے۔ ایجنسی کو موصول ہونے والے سگنلز سے بھی تصدیق ہوئی کہ خلائی جہاز کے نظام معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ مشن کی براہِ راست نشریات کے دوران جاکسا کی سائنس دان ماری آئیدا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے اس دن کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ توقع ہے کہ خلائی جہاز اگست 2027 کے قریب مریخ کے گردونواح میں پہنچ جائے گا، جہاں وہ مریخ کے دونوں چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، کا مطالعہ کرنے کے بعد فوبوس کی سطح سے نمونے جمع کرنے کی کوشش کرے گا۔ منصوبے کے مطابق ایم ایم ایکس مریخ کے علاقے میں تقریباً تین سال گزارے گا اور فوبوس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد جمع کرے گا، جسے بعد ازاں تفصیلی سائنسی تجزیے کے لیے زمین پر واپس لایا جائے گا۔ مشن کے تحت فرانس اور جرمنی کا تیار کردہ ایک روبوٹک روور، جس کا نام آئی ڈی ایف آئی ایکس رکھا گیا ہے، مرکزی خلائی جہاز کی جانب سے نمونے جمع کرنے سے قبل فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گا۔ یہ روور چاند کی سطح اور زمینی ساخت کا معائنہ کرے گا تاکہ سائنس دان محفوظ لینڈنگ اور نمونے جمع کرنے کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کرسکیں۔ اس مشن میں جاپان، امریکہ اور یورپی خلائی اداروں سمیت مختلف جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تعاون شامل ہے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ فوبوس سے حاصل ہونے والے نمونے اس دیرینہ بحث کو حل کرنے میں مدد دیں گے کہ مریخ کے دونوں چاند کیسے وجود میں آئے۔ ایک نظریے کے مطابق کسی بڑے خلائی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملبے سے یہ چاند تشکیل پائے، جبکہ دوسرے نظریے کے مطابق یہ دراصل ایسے سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ فوبوس سے حاصل ہونے والے مواد کا تجزیہ ان نظریات میں سے زیادہ درست وضاحت کا تعین کرنے اور مریخ سمیت نظامِ شمسی کے ابتدائی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جاکسا کے مطابق اس مشن کے نتائج زمین اور مریخ سمیت چٹانی سیاروں پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کی تشکیل سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی سربراہ نکی فاکس نے اس مشن کو مریخ کے نظام سے متعلق سائنسی معلومات میں اضافے اور مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔ فوبوس کی ابتدا کا مطالعہ کرنے کے علاوہ ایم ایم ایکس یہ بھی جائزہ لے گا کہ آیا یہ چاند مستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کے لیے ایک درمیانی اڈے کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔ اس کے ماحول کا مطالعہ خلائی جہازوں کی سرگرمیوں میں معاونت اور انسانی خلائی سفر کے چیلنجز کم کرنے میں اس کے ممکنہ کردار کا تعین کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مشن کے دوران مریخ کے دوسرے اور نسبتاً چھوٹے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کیا جائے گا، تاہم خلائی جہاز وہاں لینڈنگ نہیں کرے گا۔ جاپان کا یہ مشن ایسے وقت میں روانہ کیا گیا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک مریخ اور اس کے گردونواح سے نمونے زمین پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ناسا کا پرسیورنس روور 2021 سے مریخ کی سطح پر نمونے جمع کر رہا ہے، تاہم انہیں زمین پر واپس لانے کے منصوبے کو متعدد مشکلات اور تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ چین بھی اپنے تیان وین تھری مشن کی تیاری کر رہا ہے، جسے تقریباً 2028 میں روانہ کرنے اور 2031 تک مریخ سے