
ٹوکیو، 15 اگست 2026 (غفران): جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے ہفتے کے روز دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کی 81ویں سالگرہ کے موقع پر متنازع یاسوکونی مزار کا دورہ کیا، جس پر چین اور جنوبی کوریا کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق شنجیرو کوئزومی نے سیاہ سوٹ اور ٹائی میں وسطی ٹوکیو میں واقع یاسوکونی مزار کا دورہ کیا۔ جاپان کی اقتصادی سلامتی کی وزیر کیمی اونودا نے بھی مزار کا دورہ کیا۔جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کے مطابق وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے، جو گزشتہ اکتوبر وزیراعظم بننے سے قبل کئی مرتبہ اس مزار کا دورہ کر چکی ہیں، وہاں رسمی نذرانہ پیش کیا۔چین نے جاپانی حکام کے دورے اور نذرانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے جاپان کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے بھی جاپانی رہنماؤں کے مزار کے دورے اور نذرانے پر ’’گہری تشویش‘‘ کا اظہار کیا اور ان اقدامات کو ’’ماضی سے جڑے ہوئے‘‘ قرار دیا۔سیئول نے جاپانی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک کی جنگی تاریخ کا سامنا کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے ماضی پر عاجزانہ غور و فکر اور حقیقی ندامت کا اظہار کریں۔ جنوبی کوریا کے مطابق یہ مستقبل پر مبنی اور اعتماد پر قائم دوطرفہ تعلقات کے لیے ضروری ہے۔
یاسوکونی مزار میں تقریباً 25 لاکھ جاپانی جنگی ہلاک شدگان کی یاد منائی جاتی ہے، جن میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب قرار دیے گئے 14 رہنما اور 1945 میں جاپان کی شکست کے بعد اتحادی ٹریبونلز کی جانب سے مجرم قرار دیے گئے ایک ہزار سے زائد دیگر افراد بھی شامل ہیں۔چین اور جنوبی کوریا ماضی میں بھی جاپانی اعلیٰ حکام کے یاسوکونی مزار کے دوروں پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ ایسے دورے جاپان کی جنگی جارحیت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں اور ان سے سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔جاپانی حکام ماضی میں ایسے دوروں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہ دورے ذاتی حیثیت میں جنگوں میں ہلاک ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔جاپان کے آخری برسرِ اقتدار وزیراعظم شِنزو آبے نے دسمبر 2013 میں یاسوکونی مزار کا دورہ کیا تھا، جس پر اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔شنجیرو کوئزومی بھی ماضی میں یاسوکونی مزار کا دورہ کر چکے ہیں، جن میں گزشتہ سال بحیثیت وزیر زراعت ان کا دورہ بھی شامل ہے۔ جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ کے موقع پر مزار کا دورہ کرنے والے آخری برسرِ اقتدار وزیراعظم ان کے والد جونیچیرو کوئزومی تھے، جنہوں نے 2006 میں یہ دورہ کیا تھا۔