
کھٹمنڈو، 7 ستمبر 2026 (غفران): نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے نتیجے میں کم از کم 1,380 افراد کی ہلاکت کے بعد پیر کو قومی سوگ کا آخری دن منایا گیا، جبکہ امدادی ٹیموں نے 5,500 سے زائد لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھی۔ ہندو اکثریتی ملک نیپال کے سرکاری دفاتر اور بیرونِ ملک سفارتی مشنز پر قومی پرچم نصف سرنگوں رکھا گیا۔ یہ دن ہندو روایات کے مطابق سوگ کے 13ویں اور آخری دن کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مذہبی رسومات اور کھانے کی نذر پیش کی جاتی ہے۔ یہ تباہی 26 اگست کو اس وقت پیش آئی جب نیپال اور چین کی سرحد پر ہمالیائی علاقے میں گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے باعث مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں قصبے اور دیہات بہہ گئے جبکہ سڑکیں اور شاہراہیں ملبے تلے دب گئیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران امدادی ٹیموں نے چار افراد کو زندہ بچایا، جن میں ایک چینی شہری بھی شامل ہے جسے ہفتے کے روز ایک سرنگ سے نکالا گیا۔ اس کے علاوہ دو پن بجلی کے کارکنوں کو جمعے کے روز ایک دوسری سرنگ سے جبکہ ایک نیپالی خاتون کو ہفتے کے روز اس کے ملبے تلے دبے گھر سے زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کا مرکز متاثرہ علاقے کے پن بجلی گھروں پر ہے، جہاں مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چینی حکام نے بتایا کہ اتوار کو مزید 12 لاشیں برآمد کی گئیں جبکہ تبت میں سیکڑوں لاپتا افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔