
تائی پے، 2 اکتوبر 2026 (نوشین): تائیوان کو امریکہ سے 2019 میں آرڈر کیے گئے 66 نئے ایف 16 وی جنگی طیاروں میں سے پہلے دو طیارے موصول ہو گئے ہیں، جس سے چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے تناظر میں تائیوان کی فضائی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد یہ طیارے تائیوان کے مشرقی ساحل پر واقع پہاڑی علاقے کے تائی تنگ ایئر بیس پہنچے۔ تائیوان کے وزیر دفاع ویلنگٹن کو نے کہا ہے کہ مزید ایف 16 وی طیارے بھی سال کے اختتام سے قبل پہنچیں گے۔ امریکہ نے 2019 میں تائیوان کو 8 ارب ڈالر مالیت کے ایف 16 وی جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس کے بعد تائیوان کے ایف 16 طیاروں کے بیڑے کی تعداد 200 سے زیادہ ہو جائے گی۔ تاہم سافٹ ویئر سمیت مختلف مسائل کے باعث طیاروں کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ ایف 16 وی طیارے جدید ایویانکس، ریڈار اور ہتھیاروں کے نظام سے لیس ہیں، جن کا مقصد جدید چینی جنگی طیاروں، بشمول جے 20 اسٹیلتھ فائٹرز، کے مقابلے میں تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ تائیوان نے اپنے موجودہ ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کا پروگرام 2023 میں مکمل کیا تھا۔ نئے طیاروں کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تائیوان میں امریکی اسلحہ کی فراہمی میں تاخیر اور واشنگٹن کی مستقبل کی فوجی حمایت کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ قانون کے تحت تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ذرائع فراہم کرنے کا پابند ہے، تاہم دونوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ چین، جو تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، متعدد مرتبہ امریکہ سے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن تائیوان سمیت بحرالکاہل اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کھڑا ہے۔ تائیوان نے جزیرے کے گرد چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے پیش نظر جدید دفاعی سازوسامان کے حصول پر زور دیا ہے۔