Monday, August 24

بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے مسلسل گیارہویں مرتبہ پانی کا اخراج، پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری

اسلام آباد، یکم اگست 2026 (نوشین): بھارت کی جانب سے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی حفاظتی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ ملک کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ پانی کی سطح میں اضافے کے باعث سیہون کے متعدد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس سے مقامی انتظامیہ اور رہائشیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ فلڈ مانیٹرنگ حکام کے مطابق سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ کالا باغ، چشمہ اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح دریائے راوی پر ہیڈ بلوکی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب دریائے جہلم، چناب، ستلج، راوی اور کابل کے بیشتر اہم مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ تاہم چاچڑان شریف اور بینظیر پل کے مقام پر پانی کے اخراج میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 18 ہزار 978 کیوسک رہا۔ پاکستان کے بڑے آبی ذخائر میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ کر 1,539 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور ڈیم اپنی گنجائش کا 89 فیصد بھر چکا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے برابر ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,196 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ڈیم 57 فیصد بھر چکا ہے۔ متعلقہ ادارے دریاؤں، بیراجوں اور نشیبی علاقوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کریں، محتاط رہیں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔