
اسلام آباد، 26 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کی مبینہ تیاری اور آن لائن فروخت کے سنگین واقعات کا انکشاف کیا ہے، جن میں ایک ایسا کیس بھی شامل ہے جہاں ایک باپ پر اپنے ہی بچوں کی ویڈیوز پیسوں کے عوض بنانے اور فروخت کرنے کا الزام ہے۔ این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب خان نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی عمریں پانچ سے چھ سال کے درمیان تھیں اور مبینہ طور پر یہ ویڈیوز ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے فروخت کی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مواد کی ترسیل اور فروخت میں ایک نیٹ ورک ملوث تھا، جبکہ جانوروں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مبینہ واقعات کی ویڈیوز بنانے اور پھیلانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق مرکزی ملزم کا تعلق اسکردو سے ہے، جبکہ ملتان، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں تحقیقات جاری ہیں۔ شعیب خان نے بتایا کہ کراچی سے موصول ہونے والی شکایت پر آن لائن جنسی ہراسانی کے ایک کیس میں بھی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں کے خلاف جرائم سے آگاہ ہونے کے باوجود اطلاع نہ دینے والے والدین کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ این سی سی آئی اے نے طلبہ اور والدین کو آن لائن تحفظ اور موبائل فون کے استعمال سے وابستہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے جامعات اور اسکولوں میں آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ایک علیحدہ کارروائی میں ایجنسی نے کراچی میں قائم تین کمپنیوں کا سراغ لگایا، جن پر نابالغوں سے متعلق فحش متحرک مواد تیار کرنے اور فروخت کرنے کا الزام ہے۔ این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق مبینہ طور پر یہ کمپنیاں مواد کی تیاری اور تقسیم کے مختلف مراحل میں کام کرتی تھیں، جبکہ ایک شخص پر تینوں سرگرمیوں کے پیچھے ہونے کا شبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کمپنیوں نے امریکا اور جرمنی میں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی شناخت اختیار کی اور پہلے سے موجود مواد کے علاوہ گاہکوں کے مطالبے پر بھی مواد تیار کیا۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر طارق نواز نے جیو نیوز کو بتایا کہ ان کیسز کے سلسلے میں 42 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 کو باقاعدہ گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر کمپنیاں مواد فروخت کرنے کے بعد گاہکوں کو بلیک میل بھی کرتی تھیں۔ این سی سی آئی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور مالی معلومات محفوظ رکھیں، ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) اور بینکنگ پن کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور جعلی ویب سائٹس اور آن لائن فراڈ سے ہوشیار رہیں۔