
تہران، 27 ستمبر، 2026 (غفران): ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے حل کا واحد راستہ سفارت کاری ہے، تاہم آبنائے ہرمز کھولنے سے قبل اپنی شرائط پوری کرنے پر زور دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار ان شرائط کی تکمیل پر ہے، جبکہ موجودہ تعطل ختم کرنے کے لیے صرف مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے۔ ایران نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ یہ تجویز قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم عراقچی کے مطابق ثالثوں نے ابھی تک امریکا کی جانب سے حتمی جواب باضابطہ طور پر ایران کو نہیں پہنچایا اور تہران ان کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں لڑائی روکنے کے لیے سات روزہ مدت شروع ہو سکتی ہے، جس کے بعد باہمی رضامندی سے طے شدہ امور پر وسیع مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ تہران یورینیم افزودگی سمیت اپنے بیان کردہ حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دباؤ یا جبر قبول نہیں کرے گا، جبکہ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں تاہم دھمکیوں اور حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والے تنازع میں بارہا جنگ بندی اور دوبارہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور علاقائی و عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوئے۔