Wednesday, August 12

ایرانی فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو 15 سال قید کی سزا

تہران، 12 اگست 2026 (نوشین): معروف ایرانی فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو ان کی تصاویر، میڈیا انٹرویوز اور رپورٹنگ سے متعلق الزامات کے تحت 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ تفصیلات رائٹرز کی جانب سے جائزہ لیے گئے ریکارڈ کے مطابق سامنے آئی ہیں۔یلدا معیری نے اپنے صحافتی کیریئر کا بڑا حصہ ایران میں احتجاجی مظاہروں، اختلافِ رائے اور خواتین کی زندگیوں کی عکاسی کرتے ہوئے گزارا ہے۔ انہیں ایران کے قومی یوم صحافت کے موقع پر سزا سنائے جانے کا علم ہوا۔رپورٹس کے مطابق یہ سزا 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد نافذ کیے گئے قانون کے تحت سنائی گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد جاسوسی اور دشمن ممالک کے ساتھ تعاون کا مقابلہ کرنا ہے۔

یلدا معیری نے بتایا کہ جب وہ تہران کی انقلابی عدالت میں پیش ہوئیں تو انہیں مقدمے سے متعلق باضابطہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے ساتھ موجود ایک دوست نے چارج شیٹ کی تفصیلات ہاتھ سے نقل کیں۔رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی ہاتھ سے لکھی گئی تفصیلات کے مطابق ان پر ایسے میڈیا اداروں کو انٹرویوز دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے جنہیں ایرانی حکام مخالف قرار دیتے ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل سے مبینہ طور پر منسلک تنظیموں کو تصاویر فراہم کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔ رائٹرز نے واضح کیا کہ وہ چارج شیٹ کے مندرجات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔یلدا معیری نے اپنے بیان میں کہا کہ جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لے لیے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار دوبارہ ان کے گھر آئے اور ان کا سامان قبضے میں لے لیا، جس میں وہ کیمرے بھی شامل تھے جو ان کے پاس بچپن سے موجود تھے۔معیری کے مطابق ان سے کئی مرتبہ تفتیش کی گئی، جس کے بعد ان کا مقدمہ سیکیورٹی پراسیکیوٹر کے دفتر کی برانچ 33 اور بعد ازاں انقلابی عدالت کو بھیج دیا گیا۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مشن نے ان کے مقدمے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔امریکا میں قائم عبدالرحمان بورومند سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رویا بورومند نے مقدمے کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو باضابطہ دستاویزات فراہم نہ کرنا عدالتی نظام میں شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوتا ہے۔