
نئی دہلی، 5 ستمبر 2026 (نوشین): گزشتہ ماہ اچانک بلندی سے نیچے آنے کے باعث مسافروں کو زخمی کرنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں تین ہائیڈرولک نظام عارضی طور پر ناکام ہوگئے تھے۔ بھارتی حکام کی جانب سے جمعہ کو جاری کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ ایئر لائن نے نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادے کے استعمال کے ٹیسٹ میں مثبت آنے پر پائلٹ کو بھی فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ایئربس اے تین سو بیس طیارے میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔ یہ طیارہ 4 اگست کو تھائی لینڈ کے شہر فوکٹ سے نئی دہلی جا رہا تھا کہ اچانک بلندی سے نیچے آ گیا۔ واقعے کے نتیجے میں 24 مسافر زخمی ہوئے، تاہم طیارہ دوبارہ مستحکم ہوگیا اور بحفاظت نئی دہلی میں اتر گیا۔ بھارت کی شہری ہوا بازی کی وزارت نے اس واقعے کو “سنگین واقعہ” قرار دیا ہے۔ طیارہ بنانے والی کمپنی ایئربس اور فرانس کی شہری ہوا بازی کی حفاظتی ایجنسی بھی بھارتی حکام کی تحقیقات میں معاونت کر رہی ہیں۔ بھارت کے طیارہ حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارے کے پرواز کو کنٹرول کرنے والے نظام نے چند سیکنڈز کے لیے تین ہائیڈرولک نظاموں کی خرابی کا پتہ لگایا، جس کے باعث طیارے کی بلندی میں اچانک تبدیلی واقع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق طیارہ ابتدائی طور پر 372 فٹ یعنی 113 میٹر بلند ہوا، جس کے بعد 292 فٹ یعنی 89 میٹر نیچے آ گیا۔ ہائیڈرولک نظام میں خرابی کے باعث خودکار پرواز کنٹرول نظام منقطع ہوگیا اور دو سیکنڈ کے لیے طیارے کے رکنے کے خطرے کی تنبیہ بھی جاری ہوئی۔ تاہم ہائیڈرولک نظام دوبارہ بحال ہوگئے اور طیارہ معمول کی پرواز پر واپس آگیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پرواز کے کپتان کے تصدیقی طبی معائنے میں نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادے کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادے کے استعمال کی تصدیق ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ایئر انڈیا کے ترجمان نے بتایا کہ پائلٹ کو حفاظتی ضوابط، طبی اہلیت اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ادارے کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے کہا کہ وہ نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادوں کی جانچ کے لیے مزید سخت قوانین متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ایئر انڈیا نے بھی گزشتہ ماہ اپنے تمام پائلٹس کے لیے ایک مرتبہ لازمی منشیات کی جانچ کا حکم دیا تھا۔ یہ واقعہ ایئر انڈیا کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ ٹاٹا گروپ کی ملکیت یہ فضائی کمپنی گزشتہ کئی مشکلات کے بعد اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث بھی ایئر لائن کو پروازوں میں تعطل کا سامنا رہا ہے۔ ایئر انڈیا کو سب سے بڑا حالیہ دھچکا جون 2025 میں لگا، جب لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز 171 کا بوئنگ 787 ڈریم لائنر احمد آباد سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ حادثے میں طیارے میں سوار 242 افراد میں سے صرف ایک شخص زندہ بچا، جبکہ زمین پر موجود 19 افراد بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ ماہ ایئر انڈیا نے ایتھوپین ایئر لائنز کے سابق سربراہ ٹیوولڈے گیبری مریم کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا۔ ایئر لائن کو امید ہے کہ وہ موجودہ مشکلات سے نمٹتے ہوئے ادارے کو دوبارہ منافع بخش بنانے میں کامیاب ہوں گے۔