Thursday, August 27

امریکی فوج دور دراز فوجی اڈوں پر چھوٹے جوہری ری ایکٹرز نصب کرے گی

US Army to Deploy Nuclear Microreactors at Remote Military Bases

واشنگٹن، 27 اگست، 2026 (غفران): امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ دور دراز فوجی تنصیبات کو بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانے کے لیے پانچ کمپنیوں کو چھوٹے جوہری ری ایکٹرز تیار اور چلانے کے لیے 2.2 ارب ڈالر تک کے معاہدے دیے جائیں گے۔ جینس نامی پروگرام کے تحت فیکٹری میں تیار کیے جانے والے انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹرز تیار ہوں گے، جن میں سے ہر ایک 20 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرسکے گا۔ امریکی فوج کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں الاسکا اور دور دراز جزیروں سمیت ان فوجی تنصیبات کو بجلی فراہم کرسکے گی جہاں بجلی کی فراہمی مشکل اور مہنگی ہے۔ پروگرام کے تحت پہلے ری ایکٹر کی تنصیب کا ہدف ستمبر 2028 مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے منتخب پانچ کمپنیوں میں اینٹاریس نیوکلیئر انکارپوریٹڈ، بی ڈبلیو ایکس ٹی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز ایل ایل سی، جنرل اٹامکس الیکٹرو میگنیٹک سسٹمز، ریڈیئنٹ انڈسٹریز انکارپوریٹڈ اور ویسٹنگ ہاؤس گورنمنٹ سروسز شامل ہیں، جن کے ری ایکٹرز بالترتیب فورٹ بریگ، فورٹ کیمبل، فورٹ ہُڈ، فورٹ بیننگ اور فورٹ ڈرم میں تیار یا نصب کیے جائیں گے۔ فوج نے ہر کمپنی کے لیے مختص رقم ظاہر نہیں کی، تاہم ریڈیئنٹ انڈسٹریز نے بتایا ہے کہ اسے اپنے کلیڈوس انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹرز میں سے 15 تیار اور نصب کرنے کے لیے 750 ملین ڈالر تک مل سکتے ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق ان ری ایکٹرز کو تجارتی جوہری تنصیبات پر لاگو ہونے والے ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی پابندی کرنا ہوگی، تاہم ان کی نگرانی امریکی جوہری ضابطہ کار کمیشن کے بجائے امریکی فوج کرے گی۔ امریکی فوج کے تنصیبات، توانائی اور ماحولیات کے امور کے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جیف ویکس مین نے کہا کہ جینس پروگرام کا طویل مدتی مقصد ایک ایسا جوہری توانائی کا نظام تیار کرنا ہے جو تجارتی بنیادوں پر بھی قابلِ استعمال ہو۔ ریڈیئنٹ کے چیف تجارتی افسر مائیک اسٹارٹ کے مطابق یہ پروگرام کمپنی کو اپنی سرگرمیاں وسعت دینے اور تقریباً 2030 تک اعداد و شمار کے مراکز سمیت تجارتی صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ تاہم انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کو اس خدشے کے باعث تنقید کا سامنا ہے کہ ان کی بجلی روایتی جوہری بجلی گھروں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوسکتی ہے۔ ویکس مین نے بھی تسلیم کیا کہ ابتدا میں انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کی لاگت روایتی بجلی گھروں سے کم نہیں ہوگی، لیکن جینس پروگرام کے ذریعے پیداواری اور عملیاتی اخراجات کم کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں گے۔

امریکی فوج اس وقت بعض آرکٹک تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے تقریباً 40 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ ادا کرتی ہے، جسے کم کرنا فوج کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ حکام کو امید ہے کہ انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹرز دور دراز علاقوں میں زیادہ قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے اخراجات میں بھی کمی لائیں گے۔ پروگرام کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی بھی توقع ہے، کیونکہ کمپنیاں وفاقی حکومت کی فراہم کردہ رقم کے علاوہ اضافی سرمایہ حاصل کریں گی۔ مائیک اسٹارٹ نے بتایا کہ ریڈیئنٹ کے کنٹینر میں نصب کیے جانے والے ری ایکٹرزبراہِراست صارفین تک منتقل کیے جاسکتے ہیں، جس سے بجلی کی ترسیل کے بعض اخراجات ختم ہوسکتے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق مستقبل میں ان ری ایکٹرز سے فراہم کی جانے والی بجلی کی لاگت 20 سے 30 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔