
نیویارک، 29 ستمبر 2026 (کامران راجہ): امریکا اور ایران کے حکام نے سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے تحت پیر کے روز ثالثوں کے ذریعے الگ الگ مذاکرات کیے، حکام کے مطابق مذاکرات میں مزید بات چیت متوقع ہے، جس میں ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز میں ممکنہ ترامیم پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تیل کی ترسیل اور اہم آبی گزرگاہوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکا اور ایران اس سے قبل اپریل اور جون میں ثالثی کے ذریعے دو جنگ بندی معاہدوں پر پہنچے تھے، تاہم دونوں معاہدے برقرار نہ رہ سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی ردعمل اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے واشنگٹن کی شرائط کے منتظر ہیں۔ ایران کی تجویز میں ایران اور لبنان میں جاری جنگی کارروائیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اٹھانے کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کردی ہے، تاہم مزید مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو ابھی تک امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی اور تہران واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔