
مغربی کنارہ، 15 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک فلسطینی شہری کو گولی مار کر گرفتار کر لیا، جس کا تعاقب 2017 سے کیا جا رہا تھا۔ مقامی تنظیم فلسطینی قیدی کلب کے عہدیدار کمال بنی عودہ کے مطابق، چالیس سال سے زائد عمر کے سامر بنی عودہ کے ہاتھ میں گولی لگی، جب اسرائیلی خصوصی فورسز نے طوباس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طمون میں ان کے گھر اور ان کے بھائیوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس سے قبل اسرائیلی فورسز نے سامر بنی عودہ پر ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے ان کے ایک بھائی کو حراست میں لیا، تاہم کئی گھنٹے بعد رہا کر دیا۔ عہدیدار کے مطابق، سامر بنی عودہ دوسری انتفاضہ کے دوران بھی دو سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے، جبکہ ان کے اہل خانہ کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران بار بار چھاپوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب، فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ نابلس کے مغرب میں واقع المربع چیک پوسٹ پر اسرائیلی فورسز کے تشدد سے زخمی ہونے والے 21 سالہ فلسطینی نوجوان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ادھر اسرائیلی اخبار ہاریتز کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جیلوں کے محافظوں نے فلسطینی قیدیوں پر ربڑ کی گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں متعدد قیدی شدید زخمی ہوئے۔ ایک قیدی کو خصیے کی سرجری کے ذریعے نکالنے کی ضرورت پیش آئی، جبکہ ایک دوسرے قیدی کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل اور پبلک کمیٹی اگینسٹ ٹارچر اِن اسرائیل کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک پانچ اسرائیلی جیلوں میں فائرنگ کے 21 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات قیدیوں کی کوٹھڑیوں، جیل کے صحنوں اور ان مقامات پر بھی پیش آئے جہاں قیدی اپنے وکلا سے ملاقات کے منتظر تھے۔ بیشتر واقعات میں مبینہ طور پر قریبی فاصلے سے ربڑ یا پلاسٹک کی گولیاں چلائی گئیں اور اس سے قبل کسی ہنگامہ آرائی کی اطلاع نہیں تھی۔ ایک اور پیش رفت میں، فوج میں لازمی بھرتی کے مخالف درجنوں انتہائی مذہبی یہودی مظاہرین نے بدھ کے روز تل ابیب کے مشرق میں واقع شہر بنی براک میں اسرائیلی فوج کے تربیتی پروگرام کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس عمارت میں کوڈکوڈ نامی پروگرام قائم ہے، جس کے تحت انتہائی مذہبی یہودیوں کو فوج میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور سائبر سکیورٹی کی تربیت دی جاتی ہے۔ اخبار اسرائیل ہیوم کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران یہ اس عمارت میں داخل ہونے کی تیسری کوشش تھی۔ اسرائیل میں انتہائی مذہبی یہودی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد مذہبی تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے فوجی خدمات سے گریز کرتے ہیں، تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ نے جون 2024 میں ان کی فوج میں بھرتی لازمی قرار دی تھی۔