Friday, September 11

یمن میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ

Yemen Security Situation Worsens as Defence Minister’s Convoy Attacked

الضالع، 10 ستمبر 2026 (غفران): یمن میں سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے، جہاں صوبہ الضالع میں وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر حملے اور محاصرے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد وزیر دفاع کے محافظوں کو قابو کرکے حراست میں لے لیا گیا، جبکہ وزیر دفاع کو مبینہ طور پر گھیرے میں لے لیا گیا۔ وزیر دفاع کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں ان کے اغوا یا یرغمال بنائے جانے کے دعوے بھی شامل ہیں، تاہم واقعے اور وزیر دفاع کی صورتحال کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ دریں اثنا، حوثی باغیوں سے وابستہ ایک اور وزیر دفاع محمد ناصر کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یمنی فورسز نے بدھ کے روز صوبہ تعز کے مغربی علاقے البرح میں حوثیوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد حوثی کمانڈروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ محمد ناصر کی ہلاکت یا زندہ ہونے کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں پہلے ہی سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں متحارب حکام اور مسلح گروہ سرگرم ہیں۔