اسلام آباد، 21 اگست 2026 (نوشین): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ انہوں نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد مشکل ہو جائے تو جمہوریت کیسے چل سکتی ہے۔ گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی، تاہم موجودہ صورتحال میں بامعنی مذاکرات ممکن نہیں ہو سکتے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو مناسب تفصیلات فراہم کیے بغیر کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ غیر متوقع تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی جماعت سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے تین روز قبل عمران خان کو طبی معائنے اور جامع طبی جانچ کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا۔ تاہم حکومت نے بعد ازاں عمران خان کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا، جس کے بعد انہیں رات گئے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت بہتر ہے۔
