بیجنگ، 23 اکتوبر 2026 (نوشین): چین کے جنوب مغربی علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 65 ہوگئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 16 پر برقرار ہے۔ مقامی حکام نے جمعے کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس کی تصدیق کی۔ زلزلے کا مرکز شمالی تبت کے کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو میں تھا۔ یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ ناگچو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں اور ہنگامی امداد کے لیے ٹریفک پولیس اور کمیونٹی پولیس اہلکاروں سمیت 300 سے زائد اہلکار متاثرہ علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق 12 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے گھروں سے نکل کر کھلے مقامات یا سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں میں پناہ لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض رہائشیوں نے بتایا کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں سے ان کی آنکھ کھل گئی اور لرزش کے دوران گھروں کے چرچرانے کی آوازیں سنائی دیں۔ چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلے کے بعد اب تک 413 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حکام نقصانات کا جائزہ لینے اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں پڑوسی صوبے چنگھائی کے علاقے یوشو میں 7.1 شدت کے زلزلے سے کم از کم 2,698 افراد ہلاک اور تقریباً 300 لاپتا ہوگئے تھے۔
