Sunday, September 13

پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے اور قومی قرضوں میں اضافے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وفاقی حکومت پر تنقید

KP CM Criticises Federal Government Over Rising Petroleum Prices, National Debt

پشاور، 13 ستمبر 2026 (غفران): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور قومی قرضوں میں بڑھتے ہوئے اضافے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی پالیسیوں کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اس کے براہ راست اثرات غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے غریب، متوسط اور سفید پوش طبقے کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور بہت سے لوگ بنیادی ضروریات حتیٰ کہ دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافہ واضح سمت کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے قرضے 74 سال کے دوران جمع ہونے والے 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر گزشتہ پانچ برسوں میں 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ایک حالیہ بیان کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے قومی مفادات کو داؤ پر لگانا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ صرف کسی ایک صوبے کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ ریاست پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے وفاقی وزراء کی جانب سے خیبرپختونخوا کے خلاف دیے گئے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام اور حکومت میں اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے اور کیا خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک لازمی حصہ سمجھا جا رہا ہے۔