Thursday, October 8

پشاور ہائیکورٹ کا لانگ مارچ میں سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب

PHC Seeks Response from KP CM over Alleged Use of Government Resources for Long March

پشاور، 8 اکتوبر 2026 (غفران): پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں اور 4 اکتوبر کے احتجاجی لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی قاری ظہیر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے نومبر 2025 میں جاری ایک اہم فیصلے میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، تاہم ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 4 اکتوبر کو احتجاجی لانگ مارچ کے آغاز پر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران سے وضاحت طلب کی جائے۔ سماعت کے دوران عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں اکتوبر 2024 کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران پنجاب پولیس نے 10 سے زائد سرکاری گاڑیاں اور 47 سرکاری اہلکاروں کو حراست میں لیا تھا۔ عدالت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جواب موصول ہونے کے بعد کیس میں مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔