
اسلام آباد، 19 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو چین کے خلائی مرکز سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا، جبکہ پاکستان نے 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے۔ وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ اعلان اپنے آبائی شہر نارووال میں عالمی خلائی ہفتے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقی کمیشن (سپارکو) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے اپریل میں اطلاع دی تھی کہ دو پاکستانی شہریوں، محمد ذیشان علی اور خرم داؤد، کو چین کے خلا بازوں کے تربیتی پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے تصدیق کی تھی کہ دونوں امیدوار انسانی خلائی پرواز کے مشن کے لیے چین میں جدید طبی، نفسیاتی اور صلاحیتوں سے متعلق جائزے کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔ شنہوا کے مطابق دونوں میں سے ایک پاکستانی امیدوار بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ مشن میں حصہ لے گا اور چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلا باز بن جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون پاکستان کو خلائی تحقیق کے میدان میں نئی بلندیوں تک پہنچنے میں مدد دے گا۔ پاکستان اور چین نے فروری 2025 میں خلا بازوں کے تعاون سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد خلائی سرگرمیوں میں پاکستان کی شرکت کو ممکن بنانا ہے۔ یہ شراکت داری انسانی خلائی پرواز، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور چاند کی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ چین عالمی سطح پر خلائی تحقیق میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے دوران اپنے تیان گونگ خلائی اسٹیشن میں بین الاقوامی شرکت کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ دونوں ممالک ماضی میں بھی سیٹلائٹ کی لانچنگ اور چاند کی تحقیق کے منصوبوں میں تعاون کرتے رہے ہیں، جبکہ اس تازہ پیش رفت سے سائنسی اور تزویراتی تعاون مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔