
اسلام آباد، 7 ستمبر، 2026 (غفران) – پاکستان نے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعووں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی مؤقف بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق کے منافی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے متنازع جموں و کشمیر کے نقشے سے متعلق جاری بیان پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعات میں شامل ہے۔متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا فیصلہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کیا جانا ہے، جس کا اظہار اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔ پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ ظاہر کرتے ہیں اور اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور یکطرفہ خودمختاری کے دعووں کی متنازع علاقے کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنے وعدے پورے کرنے پر مجبور کرے۔