
اسلام آباد، 28 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج سے شروع ہوں گے، جن میں پاکستانی حکام کو معاشی اور مالیاتی امور کے مختلف پہلوؤں پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دینا ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ اور گردشی قرضے میں کمی کے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات، کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال، پرائمری سرپلس، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ سے متعلق بھی بریفنگ دی جائے گی۔ آئی ایم ایف اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے درمیان مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس اصلاحات پر بات چیت ہوگی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) آئی ایم ایف کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔ وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضے اور شعبہ توانائی میں اصلاحات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ صوبوں سے ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کی وصولی بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ مذاکرات میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور طے شدہ اقدامات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔