
واشنگٹن، 10 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن، سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی اور دیگر افراد کے خلاف اپنا خارج شدہ مقدمہ بحال کرانے کے لیے امریکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان افراد نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں ان کی انتخابی مہم کو روس سے جوڑ کر نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ 2022 میں دائر کیے گئے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہیلری کلنٹن اور ان کے اتحادیوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان ملی بھگت کا جھوٹا بیانیہ پھیلایا۔ ایک وفاقی جج نے مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا اور ٹرمپ اور ان کی وکیل الینا حبا پر تقریباً 10 لاکھ ڈالر جرمانہ اور عدالتی اخراجات عائد کیے تھے۔ جج کے مطابق مقدمے کا مقصد سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانا تھا۔ اٹلانٹا میں قائم امریکی اپیل کورٹ نے 2025 میں مقدمہ خارج کرنے اور جرمانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ دوسری جانب، سابق خصوصی مشیر رابرٹ مولر کی سربراہی میں 2019 میں ہونے والی تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ روس نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر مداخلت کی، تاہم تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ارکان نے انتخابی مداخلت کے معاملے پر روسی حکومت کے ساتھ سازش یا باہمی رابطہ کاری کی تھی۔ ٹرمپ روسی مداخلت کے الزامات کو بارہا مسترد کرتے ہوئے انہیں دھوکا قرار دیتے رہے ہیں۔ جیمز کومی کو بھی ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں ایک الگ مقدمے میں فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بعد ازاں وفاقی جج نے یہ مقدمہ خارج کر دیا کیونکہ عدالت کے مطابق کومی کے خلاف کارروائی کرنے والے پراسیکیوٹر کی تقرری غیر قانونی تھی۔ ٹرمپ اور ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے صدر کے عہدے اور پوری قوم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب امریکی سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مقدمہ خارج کرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔